
آئی ٹی میں 45 سال کے بعد: جب سینیارٹی بھی نوکری کی ضمانت نہیں دیتی
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے بہت سے آئی ٹی پروفیشنلز خاموشی سے محسوس کرتے ہیں۔
سالوں تک ایک ہی سوچ کے ساتھ کام کیا جاتا ہے کہ محنت کرو، تجربہ حاصل کرو، senior بنو، promotions لو، نئی technologies سیکھتے رہو، اور پھر نوکری محفوظ ہو جائے گی۔
ایک وقت تھا جب سینیارٹی کو تحفظ سمجھا جاتا تھا۔
جو شخص پندرہ یا بیس سال کسی کمپنی یا industry میں گزار دیتا تھا، اسے لگتا تھا کہ اب اس کا تجربہ اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اس نے projects کیے، pressure handle کیا، juniors کو train کیا، clients کو deal کیا، deadlines پوری کیں، اور وہ سب کچھ کیا جو ایک professional journey کا حصہ ہوتا ہے۔
لیکن پھر market بدل گئی۔
آج کئی companies experience کو strength کے بجائے cost کے طور پر دیکھنے لگی ہیں۔ زیادہ salary لینے والے senior professionals کی جگہ کم salary پر young talent یا freshers کو prefer کیا جاتا ہے۔ Companies کو کم خرچ، زیادہ flexible اور نئی energy والے employees چاہیے ہوتے ہیں۔
اور پھر اصل shock شروع ہوتا ہے۔
40 یا 45 سال کے بعد بہت سے IT professionals کو اندازہ ہوتا ہے کہ دوسری نوکری ملنا اتنا آسان نہیں جتنا وہ سمجھتے تھے۔ جو شخص کبھی senior position پر خود کو secure سمجھتا تھا، وہ اچانک freshers، young candidates اور کم salary پر کام کرنے والوں کے ساتھ competition میں آ جاتا ہے۔
یہاں سے اصل struggle شروع ہوتی ہے۔
سب سے پہلے لوگ پرانے راستے پر ہی واپس جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ CV update کرتے ہیں، jobs apply کرتے ہیں، recruiters کو messages کرتے ہیں، interviews کا انتظار کرتے ہیں۔ مگر responses slow ہوتے ہیں، openings limited ہوتی ہیں، اور salary expectations مسئلہ بن جاتی ہیں۔
پھر دوسرا مرحلہ آتا ہے: business ideas۔
اچانک ہر idea اچھا لگنے لگتا ہے۔ کوئی app بنا لیتے ہیں، کوئی software product شروع کرتے ہیں، کوئی online business، کوئی consulting service، کوئی ایسا platform جو کسی عام problem کو solve کرے۔
شروع میں یہ سب exciting لگتا ہے۔
لیکن اکثر یہ ideas proper planning سے نہیں بلکہ خوف سے پیدا ہوتے ہیں۔
انسان entrepreneur کی طرح نہیں سوچ رہا ہوتا، بلکہ ایک ایسے employee کی طرح سوچ رہا ہوتا ہے جو business کے نام پر دوبارہ ایک fixed salary جیسی security ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔
پھر YouTube phase شروع ہوتا ہے۔
“Easy business ideas”
“Low investment high profit”
“Guaranteed returns”
“Passive income”
“Financial freedom”
“Success formula”
ایسی videos دیکھ کر لگتا ہے کہ business بہت آسان ہے۔ مگر آہستہ آہستہ reality سامنے آتی ہے۔
Business salary نہیں ہوتا۔ Entrepreneurship میں ہر مہینے fixed income کی guarantee نہیں ہوتی۔ ہر آسان لگنے والے idea کے پیچھے hidden cost، competition، risk، patience اور failure کا امکان موجود ہوتا ہے۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں بہت سے professionals پھنس جاتے ہیں۔
وہ risky dream نہیں چاہتے، وہ stability چاہتے ہیں۔ مگر پرانی job stability بھی اب guaranteed نہیں رہی۔
تو پھر 45 سال کے بعد IT professionals کو کیا کرنا چاہیے؟
شاید answer صرف یہ نہیں کہ “ایک اور نوکری ڈھونڈو۔”
اور شاید answer یہ بھی نہیں کہ “سب کچھ چھوڑ کر business شروع کر دو۔”
اصل answer شاید self-dependence ہے۔
Self-dependence کا مطلب ہے crisis آنے سے پہلے preparation کرنا۔ اس کا مطلب ہے ایسی skills بنانا جو job کے باہر بھی earning دے سکیں۔ Money, clients, services, business اور market کو سمجھنا۔ ہر guaranteed-return scheme پر یقین نہ کرنا۔ ہر trending idea میں صرف اس لیے کود نہ پڑنا کہ کسی online guru نے اسے آسان بنا کر دکھایا ہے۔
ایک senior IT professional کی value ختم نہیں ہوتی۔
لیکن شاید اس value کو استعمال کرنے کا طریقہ بدلنا پڑتا ہے۔
وہ consulting کر سکتا ہے۔
>وہ small businesses کو technology solutions دے سکتا ہے۔
>>وہ automation services offer کر سکتا ہے۔
>وہ cybersecurity، cloud، AI، project management یا digital transformation میں اپنی expertise استعمال کر سکتا ہے۔
art=”4020″ data-end=”4023″ />>وہ اپنے experience کو صرف job title تک محدود رکھنے کے بجائے real-world problems solve کرنے میں لگا سکتا ہے۔
لیکن سب سے بڑی تبدیلی mindset کی ہوتی ہے۔
سالوں تک professionals کو employee mindset سکھایا جاتا ہے:
نوکری حاصل کرو۔
محنت کرو۔
Promotion لو۔
Salary کا انتظار کرو۔
Company کے ساتھ loyal رہو۔
اور secure محسوس کرو۔
مگر ایک عمر کے بعد market انسان کو مختلف سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
Jobs بری نہیں ہوتیں۔ Jobs income، discipline اور growth دیتی ہیں۔ مگر پوری زندگی صرف ایک income source پر depend کرنا risky ہو سکتا ہے۔
تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ یہ بات layoff کے بعد سمجھتے ہیں۔
سالوں کی محنت کے بعد انہیں احساس ہوتا ہے کہ company بہت جلدی آگے بڑھ جاتی ہے۔ Market آپ کے experience کے لیے نہیں رکتی۔ Recruiters ہمیشہ آپ کی journey نہیں سمجھتے۔ اور bills emotional recovery کا انتظار نہیں کرتے۔
اسی لیے یہ conversation پہلے شروع ہونی چاہیے۔
IT professionals کو 45 سال کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ تب financial stability کے بارے میں سوچیں۔ Layoff کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ تب side income explore کریں۔ Market کے reject کرنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ تب business سمجھنے کی کوشش کریں۔
ایک اور job مدد کر سکتی ہے۔
لیکن ایک اور job ہمیشہ final answer نہیں ہوتی۔
اصل سوال یہ ہے:
کیا IT professionals اپنے experience کو company کے باہر بھی asset بنانے کی تیاری کر رہے ہیں؟
کیونکہ seniority کا مطلب صرف بڑی salary نہیں ہونا چاہیے۔
Seniority کا مطلب بہتر judgment، بہتر planning، مضبوط network، اور ایک employer پر کم dependency بھی ہونا چاہیے۔
شاید 45 سال کے بعد مقصد صرف job market میں survive کرنا نہیں ہوتا۔
شاید اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان آہستہ آہستہ job market پر مکمل انحصار ختم کرنا سیکھے۔
قارئین کے لیے سوال
آپ کے خیال میں IT professionals کو 45 سال کے بعد کیا کرنا چاہیے؟
کیا انہیں ایک اور نوکری تلاش کرنی چاہیے، business شروع کرنا چاہیے، consulting میں جانا چاہیے، یا side income بہت پہلے سے build کرنی چاہیے؟



