
جب محبت قرض بن گئی – ایک مختصر کہانی
یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس نے محبت حساب لگا کر نہیں، اعتبار سے کی۔
اس کا ساتھی 43 سال کا تھا، مالی طور پر کمزور تھا اور قرض میں بھی ڈوبا ہوا تھا۔ پھر بھی وہ اس کے ساتھ کھڑی رہی۔ سفر کے زیادہ تر اخراجات وہ خود اٹھاتی رہی۔ جب اسے پیسوں کی ضرورت ہوتی، وہ مدد کرتی۔ بینک اس کے خراب کریڈٹ اسکور کی وجہ سے اسے قرض نہیں دیتا تھا، مگر اس عورت نے اس پر اعتبار کیا۔
ایک دن اس نے کہا کہ وہ نیا فون خریدنا چاہتا ہے۔ اس نے عورت کے کریڈٹ کارڈ سے ڈیڑھ لاکھ کا آئی فون خرید لیا۔ مگر پیسے کبھی واپس نہیں کیے۔
پھر بھی وہ عورت انتظار کرتی رہی۔ صرف پیسوں کا نہیں، عزت، وعدے اور ہمت کا۔
جب اس نے کہا کہ اپنے گھر والوں سے ہمارے رشتے کے بارے میں بات کرو، تو اس نے صرف ایک بار بات کی اور واپس آ کر کہہ دیا:
“میرے گھر والے دوسری کمیونٹی کی عورت کے لیے نہیں مانیں گے۔”
بس اتنا ہی۔
نہ اس نے یہ بتایا کہ یہ عورت میرے مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑی رہی۔ نہ اس نے یہ کہا کہ جب کوئی میرا سہارا نہیں تھا، یہ میرا سہارا بنی۔ نہ اس نے اس کے لیے کوشش کی، نہ لڑا، نہ مضبوطی سے کھڑا ہوا۔
اب وہ عورت ایک سوال کے ساتھ رہ گئی ہے:
اگر 43 سال کا مرد ایک عورت سے مدد، پیسہ اور سہارا لے سکتا ہے، تو کیا اس میں اتنی ہمت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اس کے لیے کھڑا بھی ہو؟
کیا یہ محبت تھی، یا وہ عورت صرف اس کے مشکل دنوں کی سہولت تھی؟
آپ کے خیال میں اسے ابھی بھی انتظار کرنا چاہیے یا اپنی عزت کے ساتھ آگے بڑھ جانا چاہیے؟



